روہنجیا تو جگہ جگہ ہیں

روہنجیاؤں سے 1982 میں برما کی شہریت چھین لی گئی۔ برمی ریاست انہیں بنگالی سمجھتی ہے اور بنگلہ دیش انہیں برمی مگر باقی دنیا انہیں کچھ نہیں سمجھتی۔

چونکہ وہ بے وطن قرار پا چکے ہیں اس لیے ان کی املاک، زندگی اور بال بچے اکثریتی بودھوں کے لیے حلال ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے بقول روہنجیا روئے زمین پر سب سے یتیم نسلی گروہ ہے۔

لیکن روہنجیا صرف برما میں ہی تھوڑی ہیں، بس نام بدل گئے ہیں۔

ہٹلر نے یورپی یہودیوں کو روہنجیا بنا ڈالا تو اسرائیل نے جیسے فلسطینوں کو روہنجیا سمجھ لیا۔

1948 میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ فلسطینیوں کو کان سے پکڑ کر، شہریت چھین کر، صدیوں پرانے آبائی گھروں سے نکال آس پاس کے ملکوں میں ہنکال دیا اور ان کے دیہاتوں کے نام تک مٹا دیے۔

وہ دن اور آج کا دن یہ گروہ بین القوامی فٹ بال بنا ہوا ہے ۔ جنہوں نے گھر نہیں چھوڑے وہ عملاً غربِ اردن اور غزہ نام کے دو پنجروں میں رہ رہے ہیں اور ان پنجروں پر دل کی تسکین کے لیے بڑا بڑا لکھ دیا ہے ’ آزادی‘۔۔۔۔

ایرانی روہنجیا بہائیوں کے نام سے معروف ہیں۔ پچھلے ایک سو برس میں قاچاروں سے پہلویوں اور پھر انقلابیوں تک ہر ایک نے ان مرتدوں کو حسبِ طاقت تختہِ مشق بنایا۔

کسی نے تعلیمی اداروں پر تالا لگا دیا، عبادت گاہیں مسمار کردیں، مذہبی لٹریچر برآمد ہونا جرم قرار پایا تو کسی نےملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کر دیے، قبریں مسخ کر دیں اور بہائیوں کو اقلیتی مذہبی شناخت سے محروم کر کے ایک سیاسی گروہ کا درجہ دے دیا۔

Read more

Leave a Reply